بلوچستان یونیورسٹی کا نام شہید پروفیسر صبا دشتیاری بلوچ یونیورسٹی رکھا جاۓ
پروفیسر نائلہ قادری بلوچ
بلوچ وطن ان کے لہو کی روشنی میں انقلاب کی منزل حاصل کرکے رہے گاـ
نصف صدی تک بلوجی زبان و ادب کے لۓ اپنی ہر سانس وقف کر دینے والے عظیم استاد آزادی،عالم، محقق، ادیب و دانشوراور درویش شہید پروفیسر صبا دشتیاری بلوچ کو صداۓحق بلند کرنے کے جرم میں ملکی اور غیر ملکی خفیہ اداروں نے ماوراۓ عدالت قتل کر کے ہم سے چھین لینے کی ناکام سازش کی
لیکن بابو دشتیاری سفر انقلاب میں ہمیشہ ہمادے ساتھ رہیں گے انہوں نے بلوچ نوجوان نسل کی جو کردار سازی اور وطن کے لیۓ بے لوث قربانی دیتے رہنے کی تربیت فرمایئ وہ تا ابد روشنی کے سفر کی طرح جاری رہے گی ـ وہ لوح و قلم ،شعور و آگہی ،امن و انسانیت سے محبت کرنے والے تھے اور یہ تمام آج ان کے لۓ نوحہ کناں ہیں ـ جامعہ بلوچستان کے تمام اساتذہ اور طلبا ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے یونیورسٹی کا نام شہید پروفیسر صبا دشتیاری بلوچ یونیورسٹی رکھ دیں اس جامعہ کے کونے کونے میں پھیلی ان کی معطر یادوں کے لۓ یہ ایک حقیر سا نذرانہ ہو گا ـ معصوم بلوچ نوجوانوں کو غائب کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کرمسخ شدہ لاشیں پھینک دینے کا تماشہ ریاست کی آیا گیری کرنے والے وزیروں سرداروں نوابوں کے ضمیر کو تو نہ جھنجھوڑ سکا لیکن پروفیسر دشتیاری یہ سب برداشت نہ کر سکے اور آتش نمرود میں کود پڑے انہوں نے بلوچ نسل کشی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ادبی خدمات کے صلے میں ملنے والے اعلی پاکستنی ایوارڈ احتجاجا قبول کر نے سے انکار کر دیا صلے و گلے سے بے پرواہ ہو کر ہرعوامی احتجاج کی رہنمایئ کی ـ وہ مسلح جدوجہد کے زبردست حامی تھے اور برملا کہتے تھے کہ "ضمیر کے ہاتھوں مرنے سے دشمن کے ہاتھوں مرنا بہتر ہے " ہر بہادر ہیرو کی طرح اپنی جسمانی زندگی کا انجام انہوں نے خود چنا اور تاریخ آزادی میں امر ہو گۓ۔ شہید نواب اکبر بگثی شہید واجہ غلام محمد اور شہید میر بالاچ مری کی شہادت برداشت کرنے کے بعد بلوچ قوم کے لۓ یہ سب سے بڑا سانحہ ہے پسماندگان میں انہوں نے لاکھوں کروڑوں بلوچ خواتین مرد بچے بوڑھے نوجوان چھوڑے ہیں ہم عہد کرتے ہیں کہ بابو دشتیاری کا مشن مکمل کریں گے ان کی دکھایئ ہویئ راہ پر چل کرتمام بلوچ پارٹیوں سرمچاروں خواتین طلبا چرواہوں ماہیگروں ادیبوں دانشوروں کو متحد کر کے منزل آزادی حاصل کریں کے ـ
0 comments:
Post a Comment