October 20, 2012

Balochistan's cities have become the training centers of Pakistani jihadists.



The renowned Afghan Jihad has destroyed the social fabric of Pakistani society. The brainchild behind it is Pakistan, who with the help of Saudi Arabian funds gave birth to these religious fanatics. Dozens of mosques and religious schools were built with their support. This practice has taken shape of a very dangerous and bloody ideology. Soviet Union has collapsed and is heading towards development but this fanatic ideology has indulged the Pakistanis in a blood-bath. Now the target of these extremists is Balochistan. They are transforming it into Swat and Waziristan.

Under the patronage of Pakistani agencies, extremist groups such as Sipah E Sahaba, Jesh E Muhamad and various other Jihadi organizations are flourishing in Chagai, an area of Balochistan which is situated on the edge of two international boundaries.

Dalbandin is the headquarter of Chagai , where people from different countries are settled. Here the roots of religious fanaticism are growing at a fast pace as compared to other cities in Pakistan. A large number of Jihadists have begun to head towards Dalbandin, ever since a resolution in favor of Balochistan was passed in the US congress. Earlier jihadists for Afghanistan were only recruited from here, but now Sipah E Sahaba and Jaish E Muhammad have set their foot in the region.

After the resolution passed by US, the Pakistani agencies have started to spill the blood of innocent people in Quetta and different areas of Balochistan to weaken the on-going Baloch national movement . This bloodshed is carried out by Pakistan to mislead the world that the war taking place in Balochistan is not for independence but a sectarian conflict. The people in Balochistan are aware enough to acknowledge the apple of discord. Truth is that these Tableeghi Groups wandering from village to village pretending to
preach Islam, are instead paving the path for the agenda set by the Jihadists. Initially these groups begin by preaching the basic fundamental concepts of Islam such as Namaz but gradually brainwash the people and are followed by Jihadists who implement their philosophies and use the innocent and ignorant ones to accomplish their needs.

On the other hand, Pakistani agencies who are nurturing the likes of Ajmal Kasab, have become a disgrace for the whole world. Jaish, Lashkar E Tayaba, Harkat E Mujahidden, Jamaat E Daawa like organizations are gaining firm footings under the supervision of these agencies. Poor residents are frightened to send their children to religious schools for learning Holy Quran, fearing their loved ones could fall prey to the trap set up by the Jihadists.

Now Dalbandin has become an epicenter of Pakistani Jihadists. Scores of 'Al Kalam' newspapers, audio CDs, Jihadi literature and books are being distributed to youth at no cost and the migrant Jihadi scholars are engaged in delivering speeches from public mosques throughout the city soon after the Maghrib prayers. Their speeches and Jihadi slogans have destroyed the sleep of the people living in the houses near-by. There are three to four places in Dalbandin where they have hideouts for training underage children and youth to assemble and fire weapons along with the techniques of accomplishing missions. Meals and refreshments are
free of cost over there. Their flags, posters and graffiti has given the district of Dalbandin, a look of a jihadi training center.

In the north of the city, a large institution has been established to provide religious education to women, where a lady from Karachi married to a religious scholar from Dalbandin is assigned to entice a large number of innocent girls to educate them about Pakistani Jihad.

The people of Dalbandin are unable to find a way out in countering them. In the start, it is easy to drive out a ghost from a haunted house but if time passes-by and its presence is disregarded then it gets difficult eventually. We all have to logically think in this regard!

SOURCE: SarBazz Baloch Via e-mail

دلبندین پاکستانی جہادیوں کا ٹریننگ سینٹر بن چکا ہےا

by SarBazz Baloch on Thursday, June 21, 2012 at 3:39am

دالبندین پاکستانی جہادیوں کا ٹریننگ سینٹر بن چکا ہے" _" (شکیل احمد نیا زمانہ میگزین)افغانستان کے نام نہاد جہاد نے پاکستانی سماج کو تباہ کرکے رکھ دیا
ہے_ جہادی سوچ کی اصل پیداوار پاکستانی ادارے ہیں _ جنہوں نے سعودی امداد سے مذہبی جنونیوں کی کھیپ تیار کی _ درجنوں مساجد اور مدرسے سعودی
امداد بنوائے گئے_ اس عمل نے ایک خطرناک خونی نظریے کے طور پر ایک شکل اختیار کرلی ہے_ سوویت یونین تو ختم ھوگیا اب وہ ترقی کے منازل طے کر رہا
ہے لیکن یہ جنونی سوچ اب پاکستانیوں کو خون میں نہلا رہی ہے_ اب ان انتہا پسندوں کا ٹارگیٹ بلوچستان ہے_ انہوں نے بلوچستان کو وزیرستان اور سوات بنا
رہے ہیں _ ایجنسیوں کے زیر سایہ سپاہ سحابہ(اہلسنت و الجماعت) جیش محمد اور دوسری جہادی تنظیمیں پھل پھول رہی ہیںبلوچستان کا علاقہ چاغی دو بین
القوامی سرحدوں پر واقع ھے_ دالبندیں چاغی کا ہیڈ کوارٹر ہے اس علاقے میں مختلف ملکوں کے لوگ آکر بس چکے ھے لیکن جنونیت کی فصل کو اس تیز
رفتاری سے بویا جا رہا ھے کہ شاید یہ تیزرفتاری پاکستان کے دیگر علاقوں میں نہ ھو امریکہ میں جب بلوچستان کی قرارداد پیش کی گئی تو اسی دن سے
دالبندین جہادیوں کے غول در غول سے سج گیا اس سے قبل دالبندیں سے صرف افغانستان کے لیے جہادی لڑکوں کو لایا جاتا تھا_ لیکن اب سپاہ صحابہ جیش
محمد کو اچھے اچھے قربانی کے بکرے مل رہے ہیں _ پاکستانی اداروں نے بلوچستان میں جاری قومی تحریک اور امریکی سینٹ میں قرارداد کی پیشگی کو
منہدم کرنے کے لیے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بے گناہ معصوم لوگوں کا خون بہانا شروع کر دیا _ ان کی اس خونی ہولی کا مقصد دنیا کو
باور کرانا ہے کہ بلوچستان میں آذادی نہیں بلکہ فرقہ وارانہ لڑائی ھو رہی ھیبلوچستان کے لوگوں کو اتنا شعور آ چکا ہے کہ اس فساد کی جڑ کون ہے ؟ حقیقت یہ
ہے کہ ان جہادیوں کے لیے پہلے پہل تبلیغی جماعتیں جو گاوں گاوں میں بسترے لیے کندھوں پر دین سکھانے کے بہانے پھر رہے ہیں اور ایک عقیدہ ان کے یہ
ذہنوں میں رکھ کر راستوں کو ھموار کر رہے ہیں _ یہ جماعتیں ابتدا نماز اور دین سکھانے کے لیے لوگوں کو گھروں سے نکال کر ان کے ذہنوں کو واش کرتے
ہیں بعد میں جہادی آکر ان ذہنوں پر اپنا فلسفہ انڈیلتے ہیں اور یہ سادہ اور جاہل لوگوں کو اپنی مقصد کےلیے استعمال کر تے ہیں _ دوسری طرف پاکستانی ادارے
جو اجمل قصاب جیسے جہادیوں کی پرورش کررہے ہے اور پوری دنیا کے لیے شرمندگی کا باعث بنے ہوئے ہے _ یہاں جیش ،لشکر طیبہ، حرکت مجاہدین جماعت
دعوہ ایسی درجنوں تنظیمیں ان اداروں کی زیر سرپرستی پر قد آور درخت بن رہے ہیں ان کے جال کو اتنی مضبوطی سے پھیلایا گیا ہے کہ ایک غریب آدمی اپنے
بچوں کو مدرسوں میں قرآن پاک سکھانے سے کتراتے ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرالخت جگر ان کے چنگل میں پھنس جائے
اب دالبندین پاکستانی جہادیوں کا ایک اہم گڑھ بن چکا ہے _ سینکڑوں کے حساب سے "القلم"اخبار، C.D جہادی کتابیں اور لٹریچر نوعمر نوجوانوں کو مفت میں
دئیے جا رہے ہے اور شہر کے وسط میں واقع جامع مسجد میں مغرب سے لے کر اذان تک باہر سے آئے ہوئے جہادی علماء لاوڈ سپیکر پر تقاریر کررہے ہیں_
انکی تقریروں اور جہادی ترانوں سے مسجد کے قریب تمام گھرانوں کے افراد نیند سے محروم رہتے ہیں_ دالبندین میں تین چار جگہوں پر ان کے ٹھکانے ہیں
جہاں یہ چھوٹے چھوٹے نوعمر بچوں اور نوجوانوں کو بندوق چلانے اور کھولنے کی تربیت سمیت اپنی ہدف تک پہنجنے کے لیے پوزیشن کی تربیت دے
ہیں_ ان کی ٹھکانوں میں قیام طعام مفت ہے _ ان کے جھنڈوں، پوسٹر، اور چاکنگ سے دالبندین کا حلیہ ایک جہادی ٹریننگ سینٹر کا منظر پیش کر رہا ہےرہے  _
دالبندین شہر سے شمال کی جانب عورتوں کو دین سکھانے کے لیے ایک بہت بڑی درسگاہ بنائی گئی ہے_ جہاں کراچی کے رہنے والی ایک مذہبی عورت
نے دالبندین کے ایک رہائشی مولوی سے شادی کر لی ہے_ درس دیتی ہے اصل میں اس خاتون نے بڑی تعداد میں دالبندین کی سادہ لوح لڑکیوں کو پاکستانی جس
کادرس دینے کے لیے ہی لائی گئی ہےجہاد  _
دالبندین کے عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ان کا مقابلہ کیسے کریں_ اگر کسی گھر میں کوئی بھوت اپنا ٹھکانا کرنا چاہے تو اسے ابتدا میں نکالنا آسان ہے اگر
وقت گزرتا جائے اور آپ دھیان نہ دیں تو اس بھوت کو نکالنا مشکل ہوتا ہے _
ہمیں شعوری طور پر اس بارے میں سوچنا چاہیے _

منت وار

1 comment:

Anti Money Laundering said...

I am deeply concerned about attacks on journalists and media workers in Pakistan and call on the authorities to bring those responsible for these crimes to justice.