September 29, 2017

Call for Afghanistan Unity from Najib's Daughter

افغانستان کے سایق صدر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی بیٹی اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی سیاستدان ہیلہ نجیب نے افغان حکومت کو افغان مصالحتی مشن کو نتیجہ خیز بنانے کےلیے تجاویز پیش کی ہیں ۔۔۔۔۔۔
ہیلہ نجیب نے اپنے کتاب جو انگریزی زبان میں ہے " صلح اور معاشرتی سلجھاو " لکھا ہے کہ اپنے والد کے قومی مصالحت کے ادھورے مشن کی تکمیل چاہتی ہیں جو اس وقت داخلی اختلافات پڑوسی ملکوں کے عدم دلچسپی اور امریکی مخالفت کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکی ہیلہ نجیب کے خیال میں پڑوسی ملکوں پاکستان ایران روس اور چین کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بہی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا داخلی طور پر تمام مزاحمتی گروپوں کو امن عمل میں شریک کیے بغیر پایدار امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہر افغان کو قایل کرنا ہوگا کہ بہت خون بہہ چکا بہت تباہی ہوچکی اب انیوالے نسل کےلیے امن بھای چارے اور برداشت کے سوا کوی اپشن نہیں بچا ہیلہ نجیب کہتی ہیں انکے شہید والد نے روسی فوج کے انخلا سے دو سال پہلے قومی مصالحت اور امن مشن کا اغاز کیا تھا اور انکی خواہش تھی کہ غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں مزید خون ریزی کا خاتمہ ہو لیکن داخلی انتشار پڑوسی ملکوں کی عدم دلچسپی امریکی مخالفت روس کی درپردہ مداخلت اور مجاہیدین کے باہیمی اختلافات نے امن کوششوں پر پانی پھیر دیا ہیلہ نجیب نے انکشاف کیا کہ جب انکے شہید والد نے مصالحت کےلیے اقتدار سے علحیدگی پر رضا مندی ظاہر کی تو روسی دوست ناراض ہوگیے اور انہیوں نے متبادل قیادت کے لیے دخل اندازی شروع کردی اور اسکا نتیجہ بہت خوفناک ثابت ہوا ہیلہ نجیب نے واضح کیا ہے کہ انہیں اقتدار سے کوی دلچسپی نہیں لیکن افغان عوام نے بہت دکھ جیلے ہیں دو ملین لوگ شہید ہوچکے ہیں اور افغانستان اج بہی سلگ رہا ہے اسلیے وہ اپنے شہید والد کے امن مشن کو پورا کرنا چاہتی ہیں ۔
اے این پی آواز
— with Rana Ahmed Azeem.

https://www.facebook.com/khadim.lehri.161/posts/178811196021683

No comments: