April 10, 2018

Baloch movement at the doorsteps of retreat

بلوچستان کی تحریک پسپائی کے دہانے پر

تحریر : سنتوش کمار سابقہ آفیسر " را "  - ترجمہ : عمران بلوچ

90 کی دہائی میں افغانستان سے خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے نواب مری کی بلوچستان آمد ، اس کے بعد حق توار نامی اسٹڈی سرکل کا غیر رسمی طور پر انعقاد اور پھر دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بلوچستان میں شورش پیدا کرنے کا ایجنڈا اوربالخصوص چین کی اثرر سوخ کو کم کرنے کی پالیسی تو نواب خیر بخش مری کے فرزند ہونے کے ناطے اور اعتبار کے عوض حیربیار مری کو یہ موقع نصیب ہوا نواب خیربخش مری کی منشاء اور اس کے فرزند ہونے کے ناطے انہوں نے یہ ذمہداری سنبھالا اور بی ایل اے کے نام سے مسلح جدوجہد شروع کی، خود اس وقت سفارتکاری اور قومی خدمت کے نام پر بچوں سمیت لندن چلا گیا، بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی بی ایل ایف کے نام سے ایک مسلح تنظیم کی بنیاد رکھی، اور خیربخش مری کے بھروسے اور اعتماد کے اوپر حیربیار مری کے ساتھ ہمرکاب ہوگئے، باقاعدہ طور پر 2000 سے مسلح کارروائی بلوچستان میں دونوں ناموں سے کام شروع ہوگیا، پھر 2005 سے نواب اکبر بگٹی پہلے سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بلوچستان کے حوالے سے جلسہ منعقد کیا، پھر ایک فوجی کیپٹن کے ہاتھوں ڈاکٹر شازیہ نامی خاتون کی ریپ کو جواز بنا کر مسلح جدوجہد شروع کی، حالانکہ اصل مقصد نواب اکبر خان بگٹی اپنی سابقہ پاکستانی وفاداری اور تابعداری کرنے والے کردار کو عمر کی آخری حصے میں دھونے اور اپنے آپ کو انفرادی حوالے سے بلوچ قوم میں ہیرو ثابت کرنے کی خاطر یہ قدم اٹھایا اس کے علاوہ خاص کچھ نہیں تھا، اگر ہوتا تو کوئی طریقہ کار سسٹم ضرور رائج کرتا ،تاکہ میرا نقش قدم پر لوگ آگے چل سکے۔
خیر اکبرخان کی موت کے بعد اس کا نواسہ براہمداغ بگٹی بطور اکبر خان کے جانشین بلوچ قوم اور دنیا کی نظر میں قابل بھروسہ شخص کے طور پر نمودار ہوا تو حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی کو پاکستان مخالف قوتیں ہر ممکن مالی کمک کرتے رہے تاکہ بلوچستان میں پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی جاری رہیں۔
آپسی تضاد اس وقت شروع ہوا جب برطانیہ گورنمنٹ پاکستان کے کہنے پر حیربیار مری کو گرفتار کیا اور اس کے بھائی بالاچ مری کی پراسرار موت بھی اچانک واقع ہوا۔

پھر چند ماہ بعد حیربیار کی ضمانت پر رہائی پاکستان کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں ہوئی ۔
پاکستان نے برطانیہ سے اپنا کیس حیربیار کے خلاف واپس لے لیا اور حیربیار نے پاکستان کو یہ بھی یقین دہائی کرائی کہ صرف بی ایل اے نہیں بلکہ بی ایل ایف اور بی آر اے بھی میرے کنٹرول میں ہیں میں سب کا ذمہداری لیکر جنگ کو ختم کرسکتا ہوں، بطور ثبوت انہوں نے عارضی جنگ بندی بھی کرواہا اور جنگ بندی کے ساتھ ساتھ بالاچ مری کی موت کی وجہ سے نواب خیر بخش مری خاموشی کے ساتھ حیربیار مری سے ناراض تھا اور حیربیار کو مشکوک نگاہ سے دیکھتا تھا اسی دوران بی آر اے اور بی ایل ایف شاید اصل حقیقت سمجھ کر حیربیار مری کی حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ واپس شروع کیا تو حیربیارمری پر پاکستانی دباؤ بڑھتا گیا تو حیربیار نے یقین دہانی کرواتا رہا یہ میری ذمہداری ہیں، میں بلوچستان میں تحریک کو ہر حال میں کمزور اور مکمل ختم کردونگا۔

انہوں نے سب سے پہلا جوکام شروع کیا وہ تھا خیر بخش سے تضاد لینا ،خیر بخش پہلے سے حیربیار سے خفا تھا پھر انہوں مہران مری پر کرپشن کا الزام لگایا کرپشن بھی ایک حد تک حقیقت تھا ،لیکن اس کی اصل بنیاد خیر بخش سے لاتعلقی تھا اصل ایجنڈا تحریک کو کمزور کرنا تھا، کیونکہ حیربیار کو اچھی طرح علم تھا کہ مہران مری کے گھیرا تنگ کرنے سے خیربخش مری مزید ناراض ہوگا پھر کرپشن کی ایشو کو اٹھانا اچھا موقع تھا، اس دواران نواب خیربخش مری نے بارہا کوشش کی کہ یہ مسئلہ پردہ نشین ہو، بس دونوں آپس میں بھائی ہیں، جو ہوگیا، سوہوگیا، نواب خیر بخش مری کا کوشش تھا بلوچ قوم کو اس بارے کچھ پتہ نہ ہو لیکن حیربیار انکار کرتا رہا کیونکہ حیربیار پاکستان کی ٹاسک پر برسرپیکار تھا آخر کار خیربخش نے اپنا راستہ الگ گیا خیر بخش مری اپنے بیٹے حیربیار کی بارے میں سب حقائق کو جانتے ہوئے پھر بھی خونی رشتے اور بیٹے ہونے کے ناطے خاموش ہوگیا۔
بس اپنے دوسرے بیٹے مہران مری کو آگے لایا تاکہ جو باہر سے فنڈنگ ہورہا بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے وہ مہران کو ملے اور حیربیار کو بھی ملتا رہے یعنی ادھا اس کو آدھا اس کو اور مزید آپسی جھگڑا نہ ہو کہ بلوچ قوم کا اعتبار ہم سے اٹھ نہ جائے۔
لیکن حیربیار کا اپنا ایجنڈا تھا، انہوں نے اپنے ٹاسک تحریک کو کمزور کرنے والے ہدف کو جاری رکھتے ہوئے بی ایل ایف اور بی آر اے سے ایک تو وہ بدلہ لینے جو جنگ بندی کے دوران جنگ کو ختم کرنے اور دوسرا اپنی ٹاسک پر کام کرنے کی ایجنڈے کے تحت سوشل میڈیا میں باقاعدہ بی ایل ایف اوربی آر اے سمیت تمام آزادی پسندوں کے خلاف ایک منفی پروپیگنڈہ مہم شروع کیا ۔
اس سے دشمن کو فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم میں مایوسی پھیلانا شامل تھا، کچھ فائدہ بھی ہوا پھر نواب مری کی رحلت کے بعد دوسرے مرحلے میں حیربیارمری نے موقع سے فاہدہ اٹھا کر بی ایل اے اور یوبی اے کا آپسی جنگ شروع کروایا، اور اس جنگ کا مقصد ایک طرف مہران مری سے وہ پیسے واپس کروانا تھا جو حیربیار کی دوران حراست مہران مری نے غبن کیا تھا، دوسرا آپسی لڑائی سے مری قبیلے میں کشت و خون کے ذریعے قبیلے کو تقسیم کرنا بلوچوں کو تحریک سے بدظن اور دور کرنے کے ساتھ ساتھ مری علاقے سے مزاحمت کا صفایا کرنا تاکہ مری علاقے سے با آسانی سے تیل کو نکالنا ، تیل نکالنے کے حوالے سے ایک معاہدہ خان آف قلات سلیمان داؤد کی معرفت سے ایک عالمی کمپنی کے ساتھ پاکستان کی رضامندی سے حیربیار کے ساتھ 2013 میں ہوا ہے ۔

یاد رہے اس تیل کے منصوبے کو اب پایہ تکمیل تک پہچانے کی ذمہ داری حیربیار مری نے اپنے بھائی گزین مری کو سونپ دیا ہے، یوبی اے کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد حیربیار مری مزید تحریک کو اور بی ایل اے کو سپوتاز کرنے کیلئے اپنے قریبی اور سرگرم ساتھیوں کو دیوار سے لگانا شروع کیا تاکہ بلوچستان میں مسلح کارروائیاں ختم ہوں اور ابھی بھی حیربیار مری مسلح جدوجہد کو ختم کرنے اور چین کی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرچکا ہے اور باہر سے فنڈ لینے کو ترک بھی نہیں کیا، وہاں بھی ایف بی ایم کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے، جس کا پاکستان کو کوئی اعتراض و نقصان بھی نہیں، دوسری طرف پاکستانی سیاست میں حصہ لینا اور اپنی قبائلی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر حیربیار مری اور مہران مری باقاعدہ طور پر صلاح مشورہ سے گزین مری کو پاکستان روانہ کیا تاکہ پاکستان سے بھی مفاد حاصل ہوں اور مری قبیلے کو اپنے مفاد کے خاطر سنبھالنا ہو ۔
گزین مری باقاعدہ اندورنی طور پر حیربیار اور مہران مری کے کہنے پر سب کچھ کررہا ہے جس طرح جاوید مینگل اور اس کے بیٹے باہر بیٹھ کر آزادی کے نام پر کاروبارکررہے ہیں اور اختر مینگل باہمی رضامندی سے پاکستان میں رہ کر مفادات حاصل کرنا، اسی طرح براہمداغ بگٹی نے بارہا کوشش کی واپس پاکستان جانے کی ،لیکن ابھی تک براہمداغ بگٹی کے شرائط کو پاکستان حکومت تسلیم نہیں کررہا ہے، براہمداغ بگٹی جلد واپس ہوگا لیکن اس پہلے پاکستان کے ساتھ اعتماد کو بحال کرنے کے خاطر براہمداغ کو کچھ قدم اٹھانا ہوگا 27 مارچ بلوچستان کے قبضہ کو رد کرنا اسی کی ایک کڑی ہے اس کے ساتھ ساتھ شاید براہمداغ پاکستان کو مزید بلیک ملینگ کیلئے اپنی مسلح کارروائیوں کو بلوچستان میں کچھ مدت کیلئے تیز کرلے۔
رہی بات حیربیار مری مہران مری اور جاوید مینگل کی ،وہ کبھی بھی واپس پاکستان نہیں آئیں گے، کیونکہ ایک تو ان کے قابل بھروسہ لوگ اخترمینگل اور گزین کی شکل میں موجود ہے وہ خود وہی کام کررہے ہیں جنہیں ان کو کرنا تھا، دوسرا بیرون ملک اب ان کا اربوں کا کاروبار چل رہا ہے حیربیار کا پولینڈ میں بڑا بزنس جسے اس کا بھائی بھائی حمزہ مری چلا رہا ہے اور خلیج (دبئی) میں حیربیار اور مہران کا ایک خاص بندہ ہے، جو مری قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اس نے پورا کاروبار سنبھالا ہوا ہے اور وہ مری دبئی میں ہمیشہ گزین مری کے ساتھ ہوتا تھا اور یہ لوگ تحریک کے پیسوں سے بیرون ملک میں عالی شان زندگی گزار رہے ہیں، اپنے بچوں کی سالگرہ منانے میں ہزاروں ڈالرز خرچ کرتے ہیں اور مزید باخبر ذرائع سے تصدیق ہوچکا ہے کہ جو قوتیں ان کو جس طرح بے دھڑک مالی کمک کررہے تھے اب ان پر بھروسہ نہیں کررہے کیونکہ ان کو اب معلوم ہوچکا ہے کہ یہ لوگ پیسے ’’ اصل کام‘‘ پہ خرچ نہیں کررہے بلکہ اپنا ذاتی کاروبارکررہے ہیں، اس کے باوجود پاکستان کی دشمنی کی وجہ سے وہ فی الحال ان کو دوٹوک الفاظ میں مسترد نہیں کررہے ہیں۔
اب بلوچستان کی تحریک کے حوالے سے ان نوجوانوں پر منحصر ہے جو حیربیار ،مہران، جاوید، براہمداغ کے زیر کنٹرول نہیں ہیں، وہ کیا کرسکتے ،کیسے اس تمام صورتحال کو کنٹرول کرکے لوگوں کے اعتبارکو بحال کرکے تحریک کو منظم شکل میں صحیح سمت گامزن کرینگے ،نہیں تو اس   دفعہ ایک بار پھر بلوچستان کی تحریک اتنے خون بہانے کے باوجود ایک بار پھرپسپا ہوگا

No comments: